مولانا طارق جمیل کی میڈیا سے معافی پر بحث یہ وہ عالم دین ہیں لیکن انھیں ہر حکومت کے ساتھ ہی دیکھا ہے

0
67

مولانا طارق جمیل کی میڈیا سے معافی پر بحث یہ وہ عالم دین ہیں لیکن میں نے تو انھیں ہر حکومت کے ساتھ ہی دیکھا ہے

سوشل میڈیا پر آئے روز کوئی نہ کوئی سیاسی یا سماجی موضوع زیر بحث رہتا ہے لیکن مولانا طارق جمیل کی دعا سے شروع ہونے والے تنازعے نے ایسی طول پکڑی کہ گذشتہ تین روز سے یہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

مولانا طارق جمیل پاکستان کے مشہور مذہبی سکالر ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ملک کے مایہ ناز سیاسی، سماجی، کھیل اور انٹرٹینمنٹ کی شخصیات کو دین کے حوالے سے ہدایت دیتے ہیں۔

لیکن وہ حالیہ عرصے کے دوران اس وقت تنقید کی زد میں آئے جب وزیراعظم عمران خان کے کورونا ریلیف
فنڈ کے لائیو ٹیلی تھون کے دوران انھیں خصوصی دعا کے لیے بلایا گیا۔

احساس ٹرانسمیشن کے دوران مولانا طارق جمیل نے اپنی دعا سے قبل وہ وجوہات بیان کیں جو ان کے خیال میں خدا کی ناراضی‘ کا باعث ہو سکتی ہیں۔

اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ انھی وجوہات کی بنا پر پوری قوم کورونا وائرس جیسی بیماری کی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ مولانا طارق جمیل نے جن وجوہات کی نشاندہی کی ان میں ان کے مطابق میڈیا کی جانب سے بولے جانے والا متواتر ’جھوٹ‘ اور معاشرے میں پھیلتی مبینہ بےحیائی پر بات کی جس کے لیے انھوں نے خواتین کے لباس کو مورد الزام ٹھہرایا۔

مولانا کے اس بیان پر متعدد صحافیوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان سے ان کے بیان کی وضاحت طلب کی۔صحافی حامد میر نے اپنے پروگرام میں مولانا طارق جمیل سے درخواست کی کہ آیا وہ ان لوگوں کا نام لیں جو جھوٹ ہولتے ہیں ورنہ اس طرح تمام میڈیا پر الزام تراشی نہ کریں۔ حامد میر کی اس تنقید کے بعد مولانا طارق جمیل نے محمد مالک کے شو میں آکر حامد میر سمیت میڈیا میں کام کرنے والے تمام افراد سے غیر مشروط معافی مانگی۔

مولانا طارق جمیل کی معافی پر لوگ ناراض کیوں؟

مولانا طارق جمیل کی جانب سے معافی مانگنے کے بعد ان کے پیروکار اور مداح بھی میدان میں آگئے۔ انھوں نے صحافی حامد میر اور میڈیا کو مولانا سے معافی منگوانے پر ان افراد پر تنقید کی۔

مولانا کے بیان کا دفاع کرنے والوں میں بہت سے اداکار، حکومتی وزرا اور یہاں تک کے معروف صحافی بھی شامل ہیں۔


مولانا طارق جمیل کے حامی جہاں ایک طرف ’ہیش ٹیک حامد میر معافی مانگو‘ کا استعمال کرتے ہوئے حامد میر
اور دیگر صحافیوں سے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو وہیں چند ایسے لوگ بھی ہیں جو مولانا کی جانب سے مانگی گئی معافی کا یہ کہہ کر دفاع کر رہے ہیں کہ ’مولانا کے پاس دلائل تو بہت تھے لیکن انھوں نے جاہل سے بحث کرنے کے بجائے معافی مانگ کر اپنی جان چھڑوائی۔‘

صحافی انصار عباسی کا کہنا تھا کہ ’مولانا طارق جمیل نے فحاشی و عریانیت کے متعلق جو بات کی وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے عین مطابق ہے لیکن افسوس اس پر بھی اُن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور ایسا کرنے والوں میں میڈیا کے ساتھ ساتھ حکومتی ذمہ دار بھی شامل ہیں جو قابل افسوس ہے۔‘

میں نے تو انھیں ہر حکومت کے ساتھ ہی دیکھا ہے

اس سلسلے میں جب بی بی سی نے حامد میر سے رابطہ کیا اور ان سے ان کے خلاف چلنے والے ٹوئٹر ٹرینڈز سے متعلق پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ سوشل میڈیا کو باقاعدگی سے فالو نہیں کرتے اس لیے وہ کسی ٹرینڈ سے آگاہ نہیں۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’مولانا طارق جمیل نے تو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ لی لیکن لگتا یہ ہے کہ ان کے معافی مانگنے سے ان لوگوں کو بہت تکلیف ہوئی جو مولانا طارق جمیل کی تقریر سے خوش تھے اور سمجھ رہے تھے کہ مولانا نے اپنی تقریر میں میڈیا کو شرمندہ کر دیا۔

اور ان میں زیادہ تعداد پاکستان تحریک انصاف والوں کی تھی۔ اب جب مولانا نے معافی مانگ لی تو وہ لوگ اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے مجھ پر تنقید کر رہے ہیں یا ٹرینڈ چلا رہے ہیں، تو میں اس میں کچھ نہیں کر سکتا۔

جب حامد میر سے پوچھا گیا کہ آیا اُن کو لگتا ہے کہ ان پر ہونے والی تنقید اس لیے ہے کہ انھوں نے ایک عالم دین کو تنقید کا نشانہ بنایا تو ان کا کہنا تھا کہ ’جب مولانا طارق جمیل نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کا نماز جنازہ پڑھایا تو تحریک انصاف کے بہت سے لوگوں نے اس پر بھی تنقید کی تھی۔‘

حامد میر کا کہنا تھا کہ انھوں نے بطور صحافی مولانا طارق جمیل کو نواز شریف، پرویز مشرف اور اب عمران خان کی تعریف کرتے دیکھا ہے۔

عالم دین ہیں لیکن میں نے تو انھیں ہر حکومت کے ساتھ ہی دیکھا ہے۔ میری رائے میں جو علمائے دین ہوتے ہیں وہ حکمرانوں کے اس طرح درباری نہیں بنتے۔

حامد میر کے مطابق مولانا نے معافی مانگ لی، ان کی طرف سے معاملہ ختم ہوگیا ’اب اگر ان کے حامی اس کو ختم نہیں کرنا چاہتے‘ تو وہ کچھ نہیں کر سکتے۔

صحافی مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ طارق جمیل نے اسی میڈیا کو ’جھوٹا‘ کہا جس نے انھیں ’ہیرو‘ بنایا تھا۔ دوسری طرف سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ مولانا نے اب تک خواتین سے متعلق اپنے بیانات پر معافی نہیں مانگی۔بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ بالکل قابل قبول نہیں۔

مولانا طارق جمیل نے آخر کہا کیا تھا؟

مولانا طارق جمیل نے احساس ٹیلی تھون کے دوران دعا میں میڈیا پر تنقید کی اور کہا تھا کہ جتنا جھوٹ میڈیا پر بولا جاتا ہے کہیں اور نہیں بولا جاتا اور اس کی وجہ سے بڑے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ٹی وی چینل کے مالک نے انھیں کہا کہ اگر میڈیا پر جھوٹ نہ بولا جائے تو میڈیا نہیں چل سکتا۔


مولانا طارق جمیل نے اپنے خطاب کے دوران معاشرے میں پھیلتی مبینہ بےحیائی پر بات کی جس کے لیے انھوں نے خواتین کے لباس کو مورد الزام ٹھہرایا۔

مولانا طارق جمیل نے اپنے خطاب کے دوران معاشرے میں پھیلتی مبینہ بےحیائی کا بھی تذکرہ کیا۔ متعدد سوشل میڈیا صارفین نے مولانا طارق جمیل کو کورونا وائرس کو اللہ کا عذاب کہنے اور خواتین کے لباس کو اس کے لیے مورد الزام ٹھہرانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔دعا میں ان کے ایسے بیانات پر مختلف حلقوں کی جانب سے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here